
Urdu Adab
An effort to share great thoughts and emotions described in best of words by Urdu poets of our times. Urdu poetry podcast.
Episodes
Aaj ki Shab Tu kis Taur Guzar Jaye Gi
By Parveen Shakir
Kabhi Kabhi Meray Dil Main
کبھی کبھی میرے دل میں
اگر کبھی میری یاد آئے
In case you miss me 🎧🎵
میں نے غزلیں کہیں
Love Indeed is the strongest emotion. It brings the best out of us. Creativity couldn’t explore its boundaries unless it is seeking the best of it.
کبھی مایوس مت ہونا
A motivational Humd
کو بہ کو پھیل گئی
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی۔۔
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
میرا دل نواز الگ ہے
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا، اُس پہ تیرا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رُک گئ گردشِ ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا..! پھر بھی تراش کے دیکھ لیں
شیشہ گرانِ شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اُس کو نہ پا سکے تھے جب، دل کا عجیب حال تھا
اب
میں سمجھ گیا۔۔۔۔۔
میں سمجھ گیا ۔۔۔ شاید یہی سمجھداری ہے
زیست کا استعارہ ہو جاۓ
زیست کا استعارہ ہو جاۓ
اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ
ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو
شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ
عین ممکن ہے عشق میں تم کو
حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ
تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں
کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ
کیا مقدر میں تھا لکھا میرے
کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ
دن گزر جاۓ گا مسرت سے
آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ
پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی
گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ
تم نظر بھر کے دیکھ لو جس ک
فصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں؟
فصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں عشق پہ جب"شین کاف"کرتا ھوں
مرا خُدا تو ھےسب کی سلامتی کا خُدا
خُدائےکُشت سے میں اِنحراف کرتا ھوں
نِزار فہم کو ھے تـابِ ارتداد کہاں
یہ لَن ترانیاں اپنے خلاف کرتا ھوں
مرےخمیر میں فرعونیت کا عُنصر ھے
بطور ایک بشر اعتراف کرتا ھـوں
میں وہ نہیں ھوں جو جَل جاؤں روشنی سے تری
میں رکھ کے فاصلہ تیرا طواف کرتا ھوں
مرے سُخن میں ھے آیاتِ آگہی کا غُلُو
رُموزِ
محبت مستقل غم ہے
سَاغر صدّیقی
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ
جو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہ
جسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا !
خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرا
مِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہ
کبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہ
جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھی
وہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہ
بَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کا
تمہاری
متاع الفاظ
”متاعِ الفاظ“
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
ھم اِسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رَستے پر
اتفاقاً ، کبھی بُھولے سے ، کہیں مل جائیں
کیا ھی اچھا ھو کہ ، ھم دوسرے لوگوں کی طرح
کچھ تکلف سے سہی ، ٹہر کہ کچھ بات کریں
اور اِس عرصۂ اخلاق و مروت میں ، کبھی
ایک پل کے لیے ، وہ ساعتِ نازک ، آ جائے
ناخنِ لفظ ، کسی یاد کے زخموں کو چُھوئے
ایک جھجھکتا ھُوا جملہ ، کوئی دُکھ دے جائے
کون جانے گا
اک فسردہ داغ میں ہے
اک حرف فسردہ داغ میں ہے
اک بات بُجھے چراغ میں ہے
اک نام لہو کی گردشوں میں
طوفان میں ڈولتا سفینہ
ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے
اک شام کہ جس کے بام و در کو
ہاری ہوئی صبح سے شکایت
رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا
اک راہ نورد جو یہ چاہے
پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے
سر سے نہ سفر کا بار اُترے
پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا
کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی
کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں
پھر آتشِ رنگ جل اُٹ
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہ
عارض اشکوں سے ۔۔۔۔
عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے
خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے
دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں
تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے
آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے
ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے
دل کے ساگر میں جو ہر شام و سحر اٹھتے ہیں
وہ تلاطم کبھی باہر نہیں دیکھے جاتے
مسکراتے ہوئے چہرے پہ نظر سب کی پڑی
زخم دل کے مگر اکثر نہیں دیکھے جاتے
حسن کے جلوے جو دیکھے ترے
تمہیں میں کسطرح دیکھوں؟
Endless expression of an emotion in just one instance
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
Words can only describe they are just references most of the time
ہم ناراض ہیں تم سے
سنو !
اک منٹ
اک منٹ
ہم نے تجھ جانا ہے فقط تیری عطا سے
رمضان سپیشل
تیرا عکس روئے جمال ہے
شہ رگ سے بھی تو قریب ہے ترا یہ کرم ہے کمال ہے
یہ جو خاک میں بھی ہے روشنی ترا عکس روئے جمال ہے
اسے چاہتوں کا کہوں اثر کہ تو ساتھ میرے ہے ہر ڈگر
میں جہاں جہاں بھی کروں نظر ترا حسن ہے بے مثال ہے
میں تو خاک ہوں وہ تہ زمیں مرا ہے نصیب فنا جزا
ترے تاج شاہی کی بات کیا نہ فنا اسے نہ زوال ہے
یہی عشق ایسی ہے رہ گزر ہے بہت کٹھن جو اے ہم سفر
نہ رکھیں سنبھل کے قدم اگر چلے وقت الٹی ہی چال ہے
تر
سنگ تراش
شاعری
Zara Si baat
An epic expression of life and love by Amjad Islam Amjad
Usay Bhool Ja
کہاں آکے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا
تجھے عشق ہو خدا کرے
Wish you taste the love, I do
Sawal Nama
Amjad Islam Amjad
“رقیب سے”۔ Raqeeb say
Master piece of Faiz Ahmed Faiz
Faiz Ahmed Faiz
چلو اب ایسا کرتے ہیں۔ Chalo ab aysa kartay hain











