
The Urdu Poetry Podcast
The Urdu Poetry Podcast connects listeners with the rich tradition of Urdu poetry, featuring modern ghazals and timeless classics from master poets. It is designed for both Urdu scholars and beginners, offering joy and knowledge through the beauty of the language. Listeners can immerse themselves in the wisdom of Urdu poetry and share their opinions with the host via email.
Episodes
Banjarah (Javed Akhtar) - Ahsan Tirmizi
Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com
Farsh e naummidi e deedar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com
Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi
کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیکب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرےخواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلکچھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گیکب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گیچائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمکبند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوطیہ اداسی کب تلککب تلک نظمیں لکھو گیرؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلکبائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاجمسکراہٹ م
Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
شہر دل کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں
چاند کے تمنائی
بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی
جاں گداز تنہائی
روح و جاں کو ڈستی ہے
روح و جاں میں بستی ہے
شہر دل کی گلیوں میں
تاک شب کی بیلوں پر
شبنمیں سرشکوں کی
بے قرار لوگوں نے
بے شمار لوگوں نے
یادگار چھوڑی ہے
اتنی بات تھوڑی ہے
صد ہزار باتیں تھیں
حیلۂ شکیبائی
صورتوں کی زیبائی
قامتوں کی رعنائی
ان سیاہ راتوں میں
ایک بھی نہ یاد آئی
جا بجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکت
Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi
مت روکو انہیں پاس آنے دو
یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں
میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں
کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
دو پاؤں بنے ہریالی پر
ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر
کچھ جگمگ جگنو جنگل سے
کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے
یہ ایک کہانی نیند بھری
اک تخت پہ بیٹھی ایک پری
کچھ گن گن کرتے پروانے
دو ننھے ننھے دستانے
کچھ اڑتے رنگیں غبارے
ببو کے دوپٹے کے تارے
یہ چہرہ بنو بوڑھی کا
یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا
یہ مجھ سے ملنے
Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi
Feel free to share your opinions with me at theurdupoetrypodcast@gmail.com
nazm:
تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں
شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا
راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری
کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں
کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں
میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں
یوں تو جو کچ
Sab Maaya Hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
Sab Maaya Hai by Ibn e Insha:
سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے
اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے
معل
Taaruf (Nun meem Rashid) - Ahsan Tirmizi
اجل، ان سے مل،
کہ یہ سادہ دل
نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب،
نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب،
نا اہل کتاب
نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین
نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین
فقط بے یقین
اجل، ان سے مت کر حجاب
اجل، ان سے مل!
بڑھو، تم بھی آگے بڑھو
اجل سے ملو،
بڑھو، نو تونگر گداؤ
نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاؤ
تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں
اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ!
بڑھو بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم
Ek ladka (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں
آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں
نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں
Ek dost ki khushmazaqi par (Majaz) - Ahsan Tirmizi
نظم:
ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جواب
شام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب
رکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق
اڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق
چھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں
دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں
موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب
جس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب
اک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا
جیسے عارض پر عروس
Manzar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
Aadab! Intezaar ka bohat shukriya. Hazir hu ik nayi nazm ke saath.
Raqeeb se (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ برسا
Itna maloom hai (Parveen Shakir) - Ahsan Tirmizi
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟
میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
ye mahlon ye takhton ye tajon ki duniya (Sahir Ludhianvi) - Ahsan Tirmizi
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی
یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے ت
Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi
میں وہ شجر تھا
کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی
زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں
اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں
کہ میں اک آواز کا سفر تھا
عجب شجر تھا
کہ اس مسافر کا منتظر تھا
جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھے
جو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارے
مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگ
Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی
شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اول شب
بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب
جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در
اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار
یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے
شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب
نیم وا کلیوں سے سر سبز سحر
یک بیک حجرۂ محبوب میں لہرانے لگے
اور خاموش دریچوں سے بہ ہنگام رحیل
جھنجھناتے ہوئے تاروں کی صدا آنے لگے
کس طرح آئے گ
Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi
مری زندگی کی لکھی ہوئی
مرے طاق دل پہ سجی ہوئی
وہ کتاب اب بھی ہے منتظر
جسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی
وہ تمام باب سبھی ورق
ہیں ابھی تلک بھی جڑے ہوئے
مرا عہد دید بھی آج تک
انہیں وہ جدائی نہ دے سکا
جو ہر اک کتاب کی روح ہے
مجھے خوف ہے کہ کتاب میں
مرے روز و شب کی اذیتیں
وہ ندامتیں وہ ملامتیں
کسی حاشیے پہ رقم نہ ہوں
میں فریب خوردۂ برتری
میں اسیر حلقۂ بزدلی
وہ کتاب کیسے پڑھوں گ
Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
تو مرد میداں تو میر لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی
پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی
Aadarsh (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
کیسی ہے یہ رسم تاؤ کیا ہے یہ آدرش مان کی خاطر جان گنوائی دل کی خاطر پریت رات کی خاطر صبح بنائی ہار کی خاطر جیت چاند کی خاطر شہر بناۓ دشت کی خاطر قہر آنکھ کی خاطر اشک بناۓ جام کی خاطر ز ہر جسم کی خاطر فرش بنایا روح کی خاطر عرش گرد کی خاطر راہ بنائی راہ کی خاطر خار بوجھو تو پاگل کا سپنا سمجھو تو سنسار
Naya Amrit (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi
دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میں
مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا
اک انساں کھڑا ہے
جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے
ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے
مگر اس پہ تو ''زہر'' لکھا ہوا ہے
اس انسان کو کیا مرض ہے
یہ کیسی دوا ہے؟
Kal humne sapna dekha hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے
اس شخص کو اپنا دیکھا ہے
وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم
اس دیس پھریں اس دیس پھریں
جوگی کا بنا کر بھیس پھریں
چاہت کے نرالے گیت لکھیں
جی موہنے والے گیت لکھیں
دھرتی کے مہکتے باغوں سے
کلیوں کی جھولی بھر لائیں
امبر کے سجیلے منڈل سے
تاروں کی ڈولی بھر لائیں
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے
وہ جس کے لب پر ٹیسو ہیں
وہ جس کے نیناں آہو ہیں
جو خار
Ek baar kaho tum meri ho (Ibn e insha) - Ahsan Tirmizi
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کی پھانس لیے من میں
کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا روپ لٹاتا ہو
جب سورج دھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دل میلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
Rang hai dil ka mere (Faiz Ahmed Faiz)- Ahsan Tirmizi
Please subscribe to this podcast, thanks.
Bahaar aai (Faiz Ahmed 'Faiz') - Ahsan Tirmizi
بہار آئی تو جیسے یک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں
جو تیرے عشاق کا لہو ہیں
ابل پڑے ہیں عذاب سارے
ملال احوال دوستاں بھی
خمار آغوش مہ وشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
Recommended

سورة المؤمنون | صفوة البیان

Urdu Adab

#1 - Tawheed bhai - Muhammad Rafi ka saathi ke saath

Quran Recitations - Fahad Aziz Niazi

Tafheem-ul-Quran

Muhammad Ali

سورة النور | صفوة البیان

Tafseer-e-Quran by Mufti Tariq Masood

Saad Al Qureshi

Engineer Muhammad Ali Mirza

Mooroo Podcast

Ask Mufti Tariq Masood Podcast